صفحہ اول

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآَنَ مَهْجُورًا(سورۃ الفُرقان آیت نمبر30) 

ترجُمہ :-اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ : (رواہ مسلم)

ترجمہ: حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند مر تبہ کرتا ہے اور کتنے ہی لوگوں کو پست اور ذلیل کرتا ہے۔

 

تعارف:۔ادارہ تحفظ بوسیدہ اوراق قرآن کریم(اتباق)عیسوی سال 2005سے قرآن کریم کے مقدس شھید اوراق کو شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے۔
قانونی حثیت:۔ ادارہ ہٰذا مارچ 2005 میں صوبائی رجسٹرار جائینٹ سٹاک کمپنیز اینڈ سو سائٹیز خیبر پختون خواہ حکومت پاکستان کے دفتر میں رجسٹرڈہے۔
ادارہ ہٰذا کا رجسٹریشن نمبر 5/3247 ہے،اور ہر سال اس ادارہ کا مذکورہ رجسٹرار کے دفتر میں تجدید کی جاتی ہے۔

اغراض و مقاصد:-اس ادارہ کا یک نکاتی ایجنڈا ہے،اور وہ یہ کہ یہ ادارہ قرآن کریم کےشھید مقدس اوراق کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ادارہ حکومت پاکستان کے آئین و قانون اور فقہ حنفی کے مسلمہ قواعد وضوابط کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہے۔

اب تک کی کارکردگی:-ادارہ ہٰذا نے اب تک بڑی مقدار میں قرآن کریم کے مقدس شہید اوراق کو مسلمان میت کی طرح دفن کئے ہیں۔

ادارہ کا موجودہ سطح اور قوت:-ادارہ کا اپنا ذاتی اثاثہ ادارہ کے ہیڈ آفس کے بلڈنگ کی صورت میں محلہ عثمان آباد منگورہ سوات میں موجود ہے۔

تمام انسانیت اور خصوصاً امت مُسلمہ کی اجتماعی زمہ داری

قرآن کریم آخری الہامی کتاب ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ جل شانہ کے جانب سےنازل کی گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم انسانیت اور خصوصاً تمام مسلمان اس کے ہمہ جہت تعلیمات سے استفادہ کریں اور اپنے دین اور دُنیا کو سنوارے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس الہامی مقدس کتاب کو پوری دُنیا میں سب سے زیادہ چھا پا جاتا ہے۔لیکن جس مقدار میں اس کی چھپائی ہو رہی ہے اسی تناسب سے اس کے اوراق شہید ہوتے بھی رہے ہیں۔

الحمد لللہ مملکت خدا داد پاکستان میں علمی اور مالی لحاظ سے مستحکم سچے اور کھرے مسلمانوں کی کمی نہیں ہے حکومت نے بھی وفاقی سطح پر قرآن  کریم کے مقدس شھید اوراق کے تحفظ کے لئے بعض ابتدائی سطح کے اقدامات اُٹھائے ہیں لیکن وہ اُمور جن کا تعلق اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے     لئے نہ ہو بلکہ نوکری اور ملازمت کے لئے مقررہ اُصول ومراعات کے لئے ہوں تو نتائج عموماً اُلٹ نکلتے ہیں۔قرآن کریم کے شہید اوراق کے تحفظ    کےلئے ہر پاکستانی شہری کی انفرادی زمہ داری کے احساس کے ساتھ اگر ادارہ تحفظ بوسیدہ اوراق قرآن کریم کے ساتھ بھر پور مالی تعاون کیا جائے تو امت کا یہ ادھورا خواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور پورا ہو جائے گا۔    

Loading